Showing posts with label World News. Show all posts
Showing posts with label World News. Show all posts

پیار کے جال میں پھنسا کر لڑکی سے اینٹھے 21 لاکھ روپے ، ہوٹل میں لے جا کر کی آبروریزی

سائبر سٹی گروگرام کے ڈی ایل ایف فیس ون تھانہ میں شادی کا جھانسہ دے کر آبروریزی اور پیار کی آڑ میں لاکھوں کا چونا لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔

سائبر سٹی گروگرام کے ڈی ایل ایف فیس ون تھانہ میں شادی کا جھانسہ دے کر آبروریزی اور پیار کی آڑ میں لاکھوں کا چونا لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ پولیس کے مطابق گروگرام کے سیکٹر 37 علاقہ کے ایک ہائی پروفائل اپارٹمنٹ میں رہنے والی لڑکی نے پولیس کو تحریری شکایت دے کر الزام لگایا ہے کہ سال 2017 میں سوشل سائٹ کے سہارے اس کی دوستی دہلی کے اشوک نگر کے رہنےو الے مہیش مندھرا سے ہوئی ۔ مہیش پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کے سامنے شادی کی تجویز رکھی ، جس کو لڑکی نے قبول کرلیا ۔
پولیس کو دی گئی تحریری شکایت میں متاثرہ نے الزام لگایا ہے کہ ایک دن ملزم گروگرام کے ڈی ایل ایف فیس ون علاقہ کے برسٹل ہوٹل میں لے کر آیا ۔ ملزم نے برسٹل ہوٹل کے کمرہ نمبر 323 میں لے جاکر متاثرہ لڑکی کی آبروریزی کی ۔ متاثرہ نے جب اس کی مخالفت کی تو ملزم جلد ہی شادی کا وعدہ کرنے لگا ۔


پولیس کے مطابق ملزم نے پیار کے جال میں پھنسا کر متاثرہ سے تقریبا 21 لاکھ روپے بھی لے لئے اور اب شادی سے انکار کررہا ہے ۔ متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 376 ، 420 ، 406 اور506 کے تحت معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے ۔
پولیس کے مطابق متاثرہ ٹی سی ایس کمپنی میں سینئر کے عہدہ پر فائز ہے ۔ پولیس نے متاثرہ کا میڈیکل کرا کر معاملہ کی جانچ شروع کردی ہے ۔ حالانکہ اس معاملہ میں پولیس نے ابھی تک ملزم مہیش کو گرفتار نہیں کیا ہے ۔

سیکس ٹوائے کا استعمال کرکے 19 سالہ لڑکی نے سہیلی کی آبروریزی کی ، کیس درج ، گرفتار

دہلی پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 377 کے تحت سہیلی کے ساتھ آبروریزی کرنے کے الزام میں ایک 19 سالہ لڑکی کو گرفتار کیا ہے ۔


دہلی پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 377 کے تحت سہیلی کے ساتھ آبروریزی کرنے کے الزام میں ایک 19 سالہ لڑکی کو گرفتار کیا ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا ایسا پہلا معاملہ ہے جب کسی خاتون کو اپنی ساتھی کی آبروریزی کا ملزم مانتے ہوئے تہاڑ جیل بھیجا گیا ہے ۔
ملزم کو پیر کو کڑکڑڈوما عدالت میں پیش کیا گیا ۔ پولیس نے عدالت سے لڑکی کی ایک دن کی ریمانڈ مانگی ، جس کو منظور کرتے ہوئے اس کو ایک دن کی عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ۔ متاثرہ نے سی پی سی کی  دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے الزام عائد کیا کہ لڑکی نے اس کے ساتھ کئی مرتبہ غیر فطری تعلقات قائم کئے ۔


متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ گزشتہ سال مارچ میں وہ گڑگاوں میں نوکری چھوڑ کر اپنی تجارت شروع کرنا چاہ رہی تھی ۔ وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ آن لائن کپڑوں کی تجارت میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی ۔ پنجاب کے راجپورہ میں ٹریننگ لینے کے بعد خاتون سے سرمیہ کاری کے طور پر 1.5 لاکھ روپے دینے کیلئے کہا گیا ۔
لڑکی نے بتایا کہ اس کے والد نے لون لے کر یہ پیسہ ادا کیا تھا ۔ اپنا کپڑا آن لائن بیچنے کیلئے پارٹنر کی تلاش کے دوران اس کی ملاقات ایک دوسرے ملزم روہت سے ہوئی ۔ اس نے بتایا کہ وہ ایچ سی ایل میں کام کرتا ہے اور وہ اس کی تجارت میں مدد کرے گا ۔
متاثرہ نے بتایا کہ روہت اس کو لے کر دلشاد کالونی کے ایک اپارٹمنٹ میں گیا ، جہاں اس نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر اس کی آبروریزی کی ۔ اس دوران اس کی فحش ویڈیو بھی بنائی گئی اور اس کو بلیک میل کیا جانے لگا ۔ متاثرہ کے مطابق پہلے انہوں نے مجھے جنسی تعلقات قائم کرنے کیلئے مجبور کیا ۔ بعد میں مجھے گراہکوں کی خدمت کیلئے بھیجا گیا ۔
لڑکی نے بتایا کہ ملزم لڑکی ہر وقت اس کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہتی تھی ۔ وہ اکثر میرے قریب آنے کی کوشش کرتی تھی اور جب میں نے منع کردیا تو اس نے میری پٹائی کی اور میرے ساتھ غیر فطری تعلقات قائم کئے ۔ متاثرہ کے مطابق ملزم لڑکی نے سیکس ٹوائے کا استعمال کرتے ہوئے غیر فطری تعلقات قائم کئے ۔

اپنے بچے کو بچانے کے لئے ماں کو کرنی پڑی جسم فروشی ! رشتہ داروں نے کسٹمرز بن کے کیا یہ کام۔

اپنے بیٹے کو دلالوں کے چنگل سے بچانے کیلئے ایک ماں نے خود کو اندھیری دنیا میں دھکیل دیا۔ جسم کے دلالوں کے درمیان پھنسی ماں نے کئی مرتبہ اپنی زندگی بھی ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ہر مرتبہ اپنے بیٹے کو پانے کی امید نے اسے زندہ رکھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن ریڈ لائٹ ایریا کے ذریعے دلالوں کے چنگل سے چھوٹی خاتون نے جب اپنی آپ بیتی سنائی تو ہرکسی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ماں کی آنکھوں سے نکلتے آنسو اس کے درد کو بیان کرنے کیلئے بھی کافی نہیں تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ مغربی بنگال کے نارتھ 24 پرگنہ ضلع کی رہنے والی خاتون کا اپنے شوہر سے کچھ مہینے پہلے جھگڑا ہو گیا تھا۔ جھگڑے کے بعد خاتون اپنے چار سال کے بیٹے کو لیکر مائیکے نکل گئی تھی لیکن ریلوے اسٹیشن پر جسم کے دلالوں نے اسے اپنے چنگل میں پھنسا لیا۔ انہوں نے خاتون کے ساتھ ہمدردی دکھائی اور اسے اپنی ایک خاتون ساتھی کے ساتھ دہلی کی ٹرین میں بیٹھا دیا۔ خاتون اسے لیکر دہلی کے ریڈ لائٹ علاقے میں آئی۔ یہاں پہنچتے ہی خاتون کو سب کچھ سمجھ آگیا۔ خاتون نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو دلالوں نے اس کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لیا اور وہاں سے اپنے ساتھ لے گئے۔

دلالوں نے خاتون کے بیٹے کے ذریعے بلیک میل کرنا شروع کیا اور اس سے وہ کرایا جسے وہ کبھی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ خاتون کو آگرہ کے تھانہ چھتا میں موجود ایک طوائف خانے میں رکھا گیا۔ 24 گھنٹے میں اسے ایک بار اپنے بچے سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کرائی جاتی تھی۔ ادھر گھر والے خاتون کو ڈھونڈنے میں لگ چکے تھے۔ خاتون کو ڈھونڈنے کے دوران اہل خانہ کو پتہ چلا کہ وہ دلالوں کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔ گھر والوں نے خاتون کو ڈھونڈنے کیلئے طوائف خانوں کے چکر کاٹنے شروع کئے۔ اسی درمیان نومبر 2018 میں اس کا پتہ چل گیا۔
کشمیری بازار ریڈ لائٹ ایریا کی گلیوں میں جب کنبہ کا ایک شخص اسے ڈھونڈ رہا تھا تبھی ایک طوائف خانے سے جھانکتی خاتون پر اس کی نظر پڑ گئی۔ اس کے بعد وہ دلال کے ذریعے وہ طوائف خانہ پہنچا۔ اس دوران دونوں ایک دوسرے سے انجان بنے رہے۔ رشتہ دارنے فورا اس کی جانکاری خاتون کے اہل خانہ کو دی گھر والوں نے اس کی جانکاری فورا پولیس کو دی اور خاتون کو محفوظ وہاں سے باہر نکالا گیا۔
پولیس نے اس وہاٹس ایپ نمبر کو بھی ٹریک کیا جس کے ذریعے ماں۔بیٹی کی ویڈیو کال کرائی جاتی تھی۔ پھر دہلی میں چار۔پانچ مقامات پر دبش دیکر بچے کو برآمد کر لیا گیا۔

‘میں سیکس نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ میرے ساتھ کرتے رہے’ ، ایک 14 سالہ روہنگیا لڑکی پر بنگلہ دیش میں کیا بیتی ؟

بنگلہ دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپوں سے نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے سمگل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق غیر ملکی افراد کو میانمار سے آنے والے روہنگیائوں کی یہ نو عمر جوان لڑکیاں بہ آسانی مل جاتی ہیں۔
ایک 14 سالہ لڑکی جس کے اہل خانہ میانمار میں قتل ہو گئے تھے کو بہت سی دیگر خواتین کیساتھ امداد کےبہانے ایک وین میں سوار کرکے نزدیکی شہر کا کس بازار لے جایا گیا۔

لڑکی نے بتایا کہ کہ ‘اس کے بعد وہ دو لڑکے میرے پاس لائے۔ انھوں نے مجھے چاقو دکھائے اور میرے پیٹ میں گھونسے مارے کیونکہ میں ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ پھر دونوں لڑکوں نے میرا ریپ کیا۔ میں سیکس کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ میرے ساتھ کرتے رہے۔’
سمگلنگ کی کہانی پناہ گزین کیمپ میں چاروں جانب بکھری پڑی ہیں۔
خواتین اور بچے ان کے زیادہ شکار ہیں جنھیں لالچ دے کر کیمپ سے باہر لے جایا جاتا ہے اور محنت مزدوری یا پھر جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اگست 2017 سے اب تک تقریبا سات لاکھ روہنگیا اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
بچوں کے استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرنے والے ادارے فاؤنڈیشن سینٹینل کے ساتھ بی بی سی کی ٹیم نے اس کاروبار کے پس پشت کام کرنے والے نیٹ ورک کے بارے میں تفتیش شروع کی کیونکہ انھوں نے اس بابت بہت سن رکھا تھا۔
بچوں اور ان کے والدین نے بتایا کہ انھیں بیرون ملک اور دارالحکومت ڈھاکہ میں گھریلو ملازمت، ہوٹل اور کچن میں کام کی پیشکش کی گئی۔ کیمپ میں موجود افراتفری بچوں کو جنسی صنعت میں دھکیلنے کے بڑے مواقع فراہم کرتی ہے۔
ایک اور لڑکی نے بتایا کہ انھیں کیسے وہاں پہنچایا گیا۔ اب ایک خیراتی تنظیم ان کی مدد کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا: مجھے معلوم تھا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ جس عورت نے مجھے کام کی پیشکش کی اس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ وہ جسم فروشی کرواتی ہے۔ وہ روہنگیا ہے جو یہاں ایک عرصے سے مقیم ہے اور سب اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ لیکن میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔ میرے لیے یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔
اس نے بتایا کہ میرے گھر کے افراد غائب ہیں۔ میرے پاس پیسہ نہیں ہے۔ میانمار میں میرا ریپ ہوا تھا۔ میں اپنے بھائي بہنوں کے ساتھ جنگل میں کھیلا کرتی تھی۔ اب مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ کیسے کھیلا جاتا ہے۔
بی بی سی کی ٹیم نے یہ ظاہر کیا کہ وہ بنگلہ دیش میں نئے آئے ہیں اور کیا انھیں بچے مل سکتے ہیں۔
صرف 48 گھنٹے کے اندر ٹیم کو جھونپڑیوں اور ہوٹلوں کے مالکوں سے مقامی دلالوں کے نمبر ملنے لگے جہاں سیکس کے لیے کمرے دیے جاتے تھے۔
ہم نے پولیس کو بتا کر ان دلالوں سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس بیرونی ممالک کے ایک شخص کے لیے نوخیز لڑکیاں بطور خاص روہنگیا لڑکیاں دستیاب ہو سکتی ہیں۔
ایک دلال نے کہا: ‘ہمارے پاس بہت سی نوجوان لڑکیاں ہیں لیکن آپ کو روہنگیا ہی کیوں چاہیے۔ وہ تو بہت گندی ہوتی ہیں۔’
ہماری جانچ کے دوران اس طرح کی باتیں بار بار آئیں۔
کاکس بازار میں جسم فروشی کی صنعت میں روہنگیا لڑکیوں کو سب سے سستا تصور کیا جاتا ہے اور ان کی مانگ بھی سب سے کم ہے۔

جنسی تعلقات بنابے کے بعد لڑکیوں میں آتی ہیں یہ تبدیلیاں۔لڑکوں کو ضرور پتہ ہونا چاہیے

آسٹریلیا کے ہیلتھ سنٹر نے جسمانی تعلقات بنانے کے بعد لڑکیوں کے اپنے پارٹنر کے ساتھ کئے جانے والے رویے کو لے کر ایک تحقیق کی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سیکس کرنے کے بعد لڑکیوں میں کس قسم کی بدیلیاں آتی ہیں۔


اس تحقیق میں تقریبا 300 خواتین کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں ان کے جسم میں ہونے والے ہارمونل تبدیلیوں کو مرکوز کیا گیا۔ اس دوران محققین کو متعدد حیران کر دینے والی معلومات ملی۔
سیکس کرنے کے بعد رونے لگتی ہیں لڑکیاں
اکثر ہم نے دیکھا کہ خواتین اپنے پارٹنر کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کے بعد جذباتی ہو جاتی ہیں۔ دراصل اس کے پیچھے یہ وجہ ہے کہ تعلقات بنانے کے بعد خواتین میں ہائپوتھیلیمس میں ٹینشن کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ جو  خواتین کو رلانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔



کم عمری میں جنسی تعلقات بنانے سے لڑکیوں کو ہوتا ہے کینسر، لڑکوں کو سکتی ہے یہ بیماری

ایک تحقیق کے مطابق کم سنی میں جنسی تعلقات قائم کرنے سے ہو سکتی ہے کینسر جیسی بیماری




کم سنی یعنی  عمر کا 13 سے 18 سال کا وہ دور جہاں آزادی کے بہت سارے معانی ہوتے ہیں۔ نئے دوست بنانا، گھومنا پھرنا، بات چیت کرنا ان سب چیزوں کے لئے آزاد ہوتے ہیں۔ اس عمر میں بچے اپنے والدین کی باتوں پر زیادہ ترتوجُّہ نہیں دیتے ہیں۔ اپنے جنس مخالف کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں اور ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ انہیں جنسی تعلقات بنانے کے لئے اکساتا ہے۔ لیکن کم سنی میں جنسی تعلقات قائم کرنے سے لڑکے اور لڑکی دونوں کو نقصان ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر لڑکیوں کو اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کس طرح سے کم عمر میں سیکس کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔



ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جنسی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے ہونے والا انفیکشن بےحد خطرناک پریشانی پیدا کر سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ کم عمر میں جنسی تعلقات بنانے سے ایس ٹی آئی کی زد میں آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سیول کے یونیورسٹی کے محقق نے یہ تحقیق کی ہے۔ اس میں پتہ چلا کہ کم عمر میں جنسی تعلقات بنانے والی لڑکیوں میں سروائیکل کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔  وہیں کم عمر کے لڑکے لڑکیوں کا ذہن بھی پوری طرح تیار نہیں ہو پاتا اور سیکس ذہن پر منفی اثر ڈالتا ہے، جس کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی دونوں کی ڈیولپمینٹ رک جاتی ہے۔