Showing posts with label World News. Show all posts
Showing posts with label World News. Show all posts

پیار کے جال میں پھنسا کر لڑکی سے اینٹھے 21 لاکھ روپے ، ہوٹل میں لے جا کر کی آبروریزی

سائبر سٹی گروگرام کے ڈی ایل ایف فیس ون تھانہ میں شادی کا جھانسہ دے کر آبروریزی اور پیار کی آڑ میں لاکھوں کا چونا لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔

سائبر سٹی گروگرام کے ڈی ایل ایف فیس ون تھانہ میں شادی کا جھانسہ دے کر آبروریزی اور پیار کی آڑ میں لاکھوں کا چونا لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ پولیس کے مطابق گروگرام کے سیکٹر 37 علاقہ کے ایک ہائی پروفائل اپارٹمنٹ میں رہنے والی لڑکی نے پولیس کو تحریری شکایت دے کر الزام لگایا ہے کہ سال 2017 میں سوشل سائٹ کے سہارے اس کی دوستی دہلی کے اشوک نگر کے رہنےو الے مہیش مندھرا سے ہوئی ۔ مہیش پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کے سامنے شادی کی تجویز رکھی ، جس کو لڑکی نے قبول کرلیا ۔
پولیس کو دی گئی تحریری شکایت میں متاثرہ نے الزام لگایا ہے کہ ایک دن ملزم گروگرام کے ڈی ایل ایف فیس ون علاقہ کے برسٹل ہوٹل میں لے کر آیا ۔ ملزم نے برسٹل ہوٹل کے کمرہ نمبر 323 میں لے جاکر متاثرہ لڑکی کی آبروریزی کی ۔ متاثرہ نے جب اس کی مخالفت کی تو ملزم جلد ہی شادی کا وعدہ کرنے لگا ۔


پولیس کے مطابق ملزم نے پیار کے جال میں پھنسا کر متاثرہ سے تقریبا 21 لاکھ روپے بھی لے لئے اور اب شادی سے انکار کررہا ہے ۔ متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 376 ، 420 ، 406 اور506 کے تحت معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے ۔
پولیس کے مطابق متاثرہ ٹی سی ایس کمپنی میں سینئر کے عہدہ پر فائز ہے ۔ پولیس نے متاثرہ کا میڈیکل کرا کر معاملہ کی جانچ شروع کردی ہے ۔ حالانکہ اس معاملہ میں پولیس نے ابھی تک ملزم مہیش کو گرفتار نہیں کیا ہے ۔

سیکس ٹوائے کا استعمال کرکے 19 سالہ لڑکی نے سہیلی کی آبروریزی کی ، کیس درج ، گرفتار

دہلی پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 377 کے تحت سہیلی کے ساتھ آبروریزی کرنے کے الزام میں ایک 19 سالہ لڑکی کو گرفتار کیا ہے ۔


دہلی پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 377 کے تحت سہیلی کے ساتھ آبروریزی کرنے کے الزام میں ایک 19 سالہ لڑکی کو گرفتار کیا ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا ایسا پہلا معاملہ ہے جب کسی خاتون کو اپنی ساتھی کی آبروریزی کا ملزم مانتے ہوئے تہاڑ جیل بھیجا گیا ہے ۔
ملزم کو پیر کو کڑکڑڈوما عدالت میں پیش کیا گیا ۔ پولیس نے عدالت سے لڑکی کی ایک دن کی ریمانڈ مانگی ، جس کو منظور کرتے ہوئے اس کو ایک دن کی عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ۔ متاثرہ نے سی پی سی کی  دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے الزام عائد کیا کہ لڑکی نے اس کے ساتھ کئی مرتبہ غیر فطری تعلقات قائم کئے ۔


متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ گزشتہ سال مارچ میں وہ گڑگاوں میں نوکری چھوڑ کر اپنی تجارت شروع کرنا چاہ رہی تھی ۔ وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ آن لائن کپڑوں کی تجارت میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی ۔ پنجاب کے راجپورہ میں ٹریننگ لینے کے بعد خاتون سے سرمیہ کاری کے طور پر 1.5 لاکھ روپے دینے کیلئے کہا گیا ۔
لڑکی نے بتایا کہ اس کے والد نے لون لے کر یہ پیسہ ادا کیا تھا ۔ اپنا کپڑا آن لائن بیچنے کیلئے پارٹنر کی تلاش کے دوران اس کی ملاقات ایک دوسرے ملزم روہت سے ہوئی ۔ اس نے بتایا کہ وہ ایچ سی ایل میں کام کرتا ہے اور وہ اس کی تجارت میں مدد کرے گا ۔
متاثرہ نے بتایا کہ روہت اس کو لے کر دلشاد کالونی کے ایک اپارٹمنٹ میں گیا ، جہاں اس نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر اس کی آبروریزی کی ۔ اس دوران اس کی فحش ویڈیو بھی بنائی گئی اور اس کو بلیک میل کیا جانے لگا ۔ متاثرہ کے مطابق پہلے انہوں نے مجھے جنسی تعلقات قائم کرنے کیلئے مجبور کیا ۔ بعد میں مجھے گراہکوں کی خدمت کیلئے بھیجا گیا ۔
لڑکی نے بتایا کہ ملزم لڑکی ہر وقت اس کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہتی تھی ۔ وہ اکثر میرے قریب آنے کی کوشش کرتی تھی اور جب میں نے منع کردیا تو اس نے میری پٹائی کی اور میرے ساتھ غیر فطری تعلقات قائم کئے ۔ متاثرہ کے مطابق ملزم لڑکی نے سیکس ٹوائے کا استعمال کرتے ہوئے غیر فطری تعلقات قائم کئے ۔

اپنے بچے کو بچانے کے لئے ماں کو کرنی پڑی جسم فروشی ! رشتہ داروں نے کسٹمرز بن کے کیا یہ کام۔

اپنے بیٹے کو دلالوں کے چنگل سے بچانے کیلئے ایک ماں نے خود کو اندھیری دنیا میں دھکیل دیا۔ جسم کے دلالوں کے درمیان پھنسی ماں نے کئی مرتبہ اپنی زندگی بھی ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ہر مرتبہ اپنے بیٹے کو پانے کی امید نے اسے زندہ رکھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن ریڈ لائٹ ایریا کے ذریعے دلالوں کے چنگل سے چھوٹی خاتون نے جب اپنی آپ بیتی سنائی تو ہرکسی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ماں کی آنکھوں سے نکلتے آنسو اس کے درد کو بیان کرنے کیلئے بھی کافی نہیں تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ مغربی بنگال کے نارتھ 24 پرگنہ ضلع کی رہنے والی خاتون کا اپنے شوہر سے کچھ مہینے پہلے جھگڑا ہو گیا تھا۔ جھگڑے کے بعد خاتون اپنے چار سال کے بیٹے کو لیکر مائیکے نکل گئی تھی لیکن ریلوے اسٹیشن پر جسم کے دلالوں نے اسے اپنے چنگل میں پھنسا لیا۔ انہوں نے خاتون کے ساتھ ہمدردی دکھائی اور اسے اپنی ایک خاتون ساتھی کے ساتھ دہلی کی ٹرین میں بیٹھا دیا۔ خاتون اسے لیکر دہلی کے ریڈ لائٹ علاقے میں آئی۔ یہاں پہنچتے ہی خاتون کو سب کچھ سمجھ آگیا۔ خاتون نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو دلالوں نے اس کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لیا اور وہاں سے اپنے ساتھ لے گئے۔

دلالوں نے خاتون کے بیٹے کے ذریعے بلیک میل کرنا شروع کیا اور اس سے وہ کرایا جسے وہ کبھی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ خاتون کو آگرہ کے تھانہ چھتا میں موجود ایک طوائف خانے میں رکھا گیا۔ 24 گھنٹے میں اسے ایک بار اپنے بچے سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کرائی جاتی تھی۔ ادھر گھر والے خاتون کو ڈھونڈنے میں لگ چکے تھے۔ خاتون کو ڈھونڈنے کے دوران اہل خانہ کو پتہ چلا کہ وہ دلالوں کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔ گھر والوں نے خاتون کو ڈھونڈنے کیلئے طوائف خانوں کے چکر کاٹنے شروع کئے۔ اسی درمیان نومبر 2018 میں اس کا پتہ چل گیا۔
کشمیری بازار ریڈ لائٹ ایریا کی گلیوں میں جب کنبہ کا ایک شخص اسے ڈھونڈ رہا تھا تبھی ایک طوائف خانے سے جھانکتی خاتون پر اس کی نظر پڑ گئی۔ اس کے بعد وہ دلال کے ذریعے وہ طوائف خانہ پہنچا۔ اس دوران دونوں ایک دوسرے سے انجان بنے رہے۔ رشتہ دارنے فورا اس کی جانکاری خاتون کے اہل خانہ کو دی گھر والوں نے اس کی جانکاری فورا پولیس کو دی اور خاتون کو محفوظ وہاں سے باہر نکالا گیا۔
پولیس نے اس وہاٹس ایپ نمبر کو بھی ٹریک کیا جس کے ذریعے ماں۔بیٹی کی ویڈیو کال کرائی جاتی تھی۔ پھر دہلی میں چار۔پانچ مقامات پر دبش دیکر بچے کو برآمد کر لیا گیا۔

‘میں سیکس نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ میرے ساتھ کرتے رہے’ ، ایک 14 سالہ روہنگیا لڑکی پر بنگلہ دیش میں کیا بیتی ؟

بنگلہ دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپوں سے نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے سمگل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق غیر ملکی افراد کو میانمار سے آنے والے روہنگیائوں کی یہ نو عمر جوان لڑکیاں بہ آسانی مل جاتی ہیں۔
ایک 14 سالہ لڑکی جس کے اہل خانہ میانمار میں قتل ہو گئے تھے کو بہت سی دیگر خواتین کیساتھ امداد کےبہانے ایک وین میں سوار کرکے نزدیکی شہر کا کس بازار لے جایا گیا۔

لڑکی نے بتایا کہ کہ ‘اس کے بعد وہ دو لڑکے میرے پاس لائے۔ انھوں نے مجھے چاقو دکھائے اور میرے پیٹ میں گھونسے مارے کیونکہ میں ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ پھر دونوں لڑکوں نے میرا ریپ کیا۔ میں سیکس کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ میرے ساتھ کرتے رہے۔’
سمگلنگ کی کہانی پناہ گزین کیمپ میں چاروں جانب بکھری پڑی ہیں۔
خواتین اور بچے ان کے زیادہ شکار ہیں جنھیں لالچ دے کر کیمپ سے باہر لے جایا جاتا ہے اور محنت مزدوری یا پھر جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اگست 2017 سے اب تک تقریبا سات لاکھ روہنگیا اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
بچوں کے استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرنے والے ادارے فاؤنڈیشن سینٹینل کے ساتھ بی بی سی کی ٹیم نے اس کاروبار کے پس پشت کام کرنے والے نیٹ ورک کے بارے میں تفتیش شروع کی کیونکہ انھوں نے اس بابت بہت سن رکھا تھا۔
بچوں اور ان کے والدین نے بتایا کہ انھیں بیرون ملک اور دارالحکومت ڈھاکہ میں گھریلو ملازمت، ہوٹل اور کچن میں کام کی پیشکش کی گئی۔ کیمپ میں موجود افراتفری بچوں کو جنسی صنعت میں دھکیلنے کے بڑے مواقع فراہم کرتی ہے۔
ایک اور لڑکی نے بتایا کہ انھیں کیسے وہاں پہنچایا گیا۔ اب ایک خیراتی تنظیم ان کی مدد کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا: مجھے معلوم تھا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ جس عورت نے مجھے کام کی پیشکش کی اس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ وہ جسم فروشی کرواتی ہے۔ وہ روہنگیا ہے جو یہاں ایک عرصے سے مقیم ہے اور سب اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ لیکن میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔ میرے لیے یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔
اس نے بتایا کہ میرے گھر کے افراد غائب ہیں۔ میرے پاس پیسہ نہیں ہے۔ میانمار میں میرا ریپ ہوا تھا۔ میں اپنے بھائي بہنوں کے ساتھ جنگل میں کھیلا کرتی تھی۔ اب مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ کیسے کھیلا جاتا ہے۔
بی بی سی کی ٹیم نے یہ ظاہر کیا کہ وہ بنگلہ دیش میں نئے آئے ہیں اور کیا انھیں بچے مل سکتے ہیں۔
صرف 48 گھنٹے کے اندر ٹیم کو جھونپڑیوں اور ہوٹلوں کے مالکوں سے مقامی دلالوں کے نمبر ملنے لگے جہاں سیکس کے لیے کمرے دیے جاتے تھے۔
ہم نے پولیس کو بتا کر ان دلالوں سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس بیرونی ممالک کے ایک شخص کے لیے نوخیز لڑکیاں بطور خاص روہنگیا لڑکیاں دستیاب ہو سکتی ہیں۔
ایک دلال نے کہا: ‘ہمارے پاس بہت سی نوجوان لڑکیاں ہیں لیکن آپ کو روہنگیا ہی کیوں چاہیے۔ وہ تو بہت گندی ہوتی ہیں۔’
ہماری جانچ کے دوران اس طرح کی باتیں بار بار آئیں۔
کاکس بازار میں جسم فروشی کی صنعت میں روہنگیا لڑکیوں کو سب سے سستا تصور کیا جاتا ہے اور ان کی مانگ بھی سب سے کم ہے۔

جنسی تعلقات بنابے کے بعد لڑکیوں میں آتی ہیں یہ تبدیلیاں۔لڑکوں کو ضرور پتہ ہونا چاہیے

آسٹریلیا کے ہیلتھ سنٹر نے جسمانی تعلقات بنانے کے بعد لڑکیوں کے اپنے پارٹنر کے ساتھ کئے جانے والے رویے کو لے کر ایک تحقیق کی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سیکس کرنے کے بعد لڑکیوں میں کس قسم کی بدیلیاں آتی ہیں۔


اس تحقیق میں تقریبا 300 خواتین کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں ان کے جسم میں ہونے والے ہارمونل تبدیلیوں کو مرکوز کیا گیا۔ اس دوران محققین کو متعدد حیران کر دینے والی معلومات ملی۔
سیکس کرنے کے بعد رونے لگتی ہیں لڑکیاں
اکثر ہم نے دیکھا کہ خواتین اپنے پارٹنر کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کے بعد جذباتی ہو جاتی ہیں۔ دراصل اس کے پیچھے یہ وجہ ہے کہ تعلقات بنانے کے بعد خواتین میں ہائپوتھیلیمس میں ٹینشن کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ جو  خواتین کو رلانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔



کم عمری میں جنسی تعلقات بنانے سے لڑکیوں کو ہوتا ہے کینسر، لڑکوں کو سکتی ہے یہ بیماری

ایک تحقیق کے مطابق کم سنی میں جنسی تعلقات قائم کرنے سے ہو سکتی ہے کینسر جیسی بیماری




کم سنی یعنی  عمر کا 13 سے 18 سال کا وہ دور جہاں آزادی کے بہت سارے معانی ہوتے ہیں۔ نئے دوست بنانا، گھومنا پھرنا، بات چیت کرنا ان سب چیزوں کے لئے آزاد ہوتے ہیں۔ اس عمر میں بچے اپنے والدین کی باتوں پر زیادہ ترتوجُّہ نہیں دیتے ہیں۔ اپنے جنس مخالف کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں اور ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ انہیں جنسی تعلقات بنانے کے لئے اکساتا ہے۔ لیکن کم سنی میں جنسی تعلقات قائم کرنے سے لڑکے اور لڑکی دونوں کو نقصان ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر لڑکیوں کو اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کس طرح سے کم عمر میں سیکس کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔



ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جنسی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے ہونے والا انفیکشن بےحد خطرناک پریشانی پیدا کر سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ کم عمر میں جنسی تعلقات بنانے سے ایس ٹی آئی کی زد میں آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سیول کے یونیورسٹی کے محقق نے یہ تحقیق کی ہے۔ اس میں پتہ چلا کہ کم عمر میں جنسی تعلقات بنانے والی لڑکیوں میں سروائیکل کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔  وہیں کم عمر کے لڑکے لڑکیوں کا ذہن بھی پوری طرح تیار نہیں ہو پاتا اور سیکس ذہن پر منفی اثر ڈالتا ہے، جس کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی دونوں کی ڈیولپمینٹ رک جاتی ہے۔

ﻣﯿﺎﮞ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﻧﮯ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﺷﺮﻁ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﯼ


ﺍﺳﻼﻡ ﺍٓﺑﺎﺩ ‏( ﻣﺎﻧﯿﭩﺮﻧﮓ ﮈﯾﺴﮏ ‏) ﻣﯿﺎﮞ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﻧﮯ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﺷﺮﻁ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﯼ ۔۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ‏( ﻥ ‏) ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﻣﯿﺎﮞ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﺑﯿﻮﺭﻭ ‏( ﻧﯿﺐ ‏) ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍٓﺷﯿﺎﻧﮧ ﮨﺎﻭٔﺳﻨﮓ ﺍﺳﮑﯿﻢ ﮐﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﺟﻼﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮِ ﺍﻋﻠﯽٰ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﻧﯿﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍٓﺷﯿﺎﻧﮧ ﮨﺎﻭٔﺳﻨﮓ ﺍﺳﮑﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺩﮬﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ . ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺳﻌﺪ ﺭﻓﯿﻖ ﮐﯽ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭﯼ ﭘﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ
ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮕﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﮐﻮ ﭘﺮﺳﻮﮞ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ . ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﭙﯿﮑﺮ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺍﺳﺪ ﻗﯿﺼﺮ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺳﻌﺪ ﺭﻓﯿﻖ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮈﮐﺸﻦ ﺍٓﺭﮈﺭ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ . ﺷﮩﺒﺎﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﺮﻭﮈﮐﺸﻦ ﺍٓﺭﮈﺭ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻞ ﺭﺍﺕ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺍٓﺭﮈﺭ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ، ﺗﺎﮨﻢ ﺍﺳﭙﯿﮑﺮ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺳﻌﺪ ﺭﻓﯿﻖ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮈﮐﺸﻦ ﺍٓﺭﮈﺭ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﺩﯾﮟ . ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﺯﯾﺮﺧﺎﺭﺟﮧ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﻧﮯ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮩﺖ ﭘﻮﻟﺮﺍﺋﺰﯾﺸﻦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﮐﺎ ﺗﻘﺪﺱ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ . ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﻭٔﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ . ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺣﺎﺋﻞ ﭼﯿﻠﻨﺠﺰ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﯾﮟ . ﻭﻓﺎﻗﯽ ﻭﺯﯾﺮِ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺩﻭﺭِ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺑﺠﭧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻧﮯ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺗﻘﺎﺭﯾﺮ ﮐﯿﮟ . ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﺠﭧ ﺗﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﺎﻧﯽ ﺗﻘﺎﺿﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﺫﮨﻦ ﺟﻤﮩﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﻮﭺ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﺗﻘﺪﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ . ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻓﺮﺍﻍ ﺩﻟﯽ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻻﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ ﺳﻨﺘﯽ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﺠﭧ ﺗﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﮨﯽ ﺟﺎﺗﺎ . ﻭﺯﯾﺮﺧﺎﺭﺟﮧ ﻧﮯ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﻗﺎﺋﻤﮧ ﮐﻤﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮﻭﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ . ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﺒﻠﮏ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺲ ﮐﻤﯿﭩﯽ ‏( ﭘﯽ ﺍﮮ ﺳﯽ ‏) ﮐﯽ ﭼﯿﺌﺮﻣﯿﻦ ﺷﭗ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺤﻘﺎﻕ ﮐﻮ ﺍﺻﻮﻟﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﯿﺐ ﻣﻘﺪﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﺎﮨﻢ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭼﯿﺌﺮﻣﯿﻦ ﺷﭗ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻣﺰﺩ ﮐﺮﺩﯾﮟ . ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺳﺎﮐﮫ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺐ ﺯﺩﮦ ﺷﺨﺺ ﭘﯽ ﺍﮮ ﺳﯽ ﮐﺎ ﭼﯿﺌﺮﻣﯿﻦ ﺑﻨﮯ، ﺗﺎﮨﻢ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻣﺰﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﮔﮯ . ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﮨﭧ ﺩﮬﺮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﻭﺳﯿﻊ ﺗﺮ ﻣﻔﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻭﺯﯾﺮِﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ . ﻭﺯﯾﺮﺩﻓﺎﻉ ﭘﺮﻭﯾﺰ ﺧﭩﮏ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺗﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﺐ ﮐﺎ ﭼﻮﻟﯽ ﺩﺍﻣﻦ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻼﻑ ﻧﯿﺐ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺕ ﮨﻮﺗﯿﮟ .
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺛﺒﻮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ، ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮈﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻠﻂ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ . ﻭﺯﯾﺮِ ﺩﻓﺎﻉ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻼﻑ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﮐﯿﺲ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺲ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﯾﺰ ﺧﭩﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﺐ ﮐﮯ ﺯﯾﺮِ ﺣﺮﺍﺳﺖ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ . ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮِ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﺌﺮ ﺭﺍﮨﻨﻤﺎ ﺭﺍﺟﮧ ﭘﺮﻭﯾﺰ ﺍﺷﺮﻑ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍٓﺝ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺒﻠﮏ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺲ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺳﭙﯿﮑﺮ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺧﺮﺍﺝِ ﺗﺤﺴﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﮨﯿﮟ . ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﯾﺮِ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻮ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺝِ ﺗﺤﺴﯿﻦ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ 

ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭼﻨﺪ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ۔۔ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﻟﺮﺯ ﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﺒﺮ ﺍٓﮔﺌﯽ


ﺍﺳﻼﻡ ﺍٓﺑﺎﺩ ‏( ﻣﺎﻧﯿﭩﺮﻧﮓ ﮈﯾﺴﮏ ‏) ﺟﺲ ﮐﺎ ﺧﺪﺷﮧ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ۔۔ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭼﻨﺪ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ۔۔ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﻟﺮﺯ ﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﺒﺮ ﺍٓﮔﺌﯽ ۔۔ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﻥ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺭﺍﻧﺎ ﺛﻨﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻣﺘﺤﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﻥ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺭﺍﻧﺎ ﺛﻨﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ 156 ﻭﻭﭦ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﻥ ﮐﮯ 85 ﻭﻭﭦ،ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ 54 ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﮐﮯ 16 ﻭﻭﭦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮧ 155 ﻭﻭﭦ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ
156 ﻭﻭﭦ ﮨﯿﮟ۔ﺟﺐ ﮐﮧ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﺗﺤﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭﺷﭗ ﮐﯽ ﺍٓﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﻮﮌﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﺜﺮ ﮨﮯ ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯽ۔ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻣﺘﺤﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻝ ﺳﮑﺘﯽ۔ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ 25 ﺟﻮﻻﺋﯽ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﺎﻡ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﯽ۔ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻧﮯ ﮐﻞ 116 ﻧﺸﺴﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ۔ ﺗﺎﮨﻢ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﻮ ﻭﻓﺎﻕ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺰﯾﺪ 21 ﻧﺸﺴﺘﯿﮟ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺑﮭﺎﮒ ﺩﻭﮌ ﺳﮯ ﺍٓﺯﺍﺩ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ﭼﻨﺪ ﮨﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﺧﻮﺏ ﺩﻭﮌ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﮯ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﻧﻤﺒﺮﺯ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍٓﺯﺍﺩ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﮐﻮ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﯾﮕﺮ ﮐﺌﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﻕ، ﺍﯾﻢ ﮐﯿﻮ ﺍﯾﻢ، ﺑﯽ ﺍﮮ ﭘﯽ، ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﮐﻮ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻗﺎﺋﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﮯ۔ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻧﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻧﻤﺒﺮﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ۔

یہاں کھل رہا سیکس ڈال کا طوائف خانہ

ایک سیکس ڈال کمپنی کے سی ای او میٹ میکملین کا کہنا ہے کہ یہ ڈال آرٹیفیشیل انٹیلی جینس تکنیکی پر کام کرتی ہے۔ سیکس ڈالس باتیں اور پیار بھی کرتی ہیں۔

دنیا بھر کے لوگ اکیلے پن سے جوجھ رہے ہیں۔ اکیلے محسوس کرنے والے لوگوں کیلئے سیکس روبوٹ ڈالس بنائی گئی ہیں جن سے لوگ با ت کرنے کے ساتھ سیکس بھی کر رہے ہیں۔ کئی سیکس ڈالس میں آرٹیفیشیل انٹیلی جینس تکنیکی کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ وہ اپنے مالک سے بات بھی کرتی ہیں اور پیار بھی کرتی ہیں۔ مارکیٹ میں سیکس ڈال کے کافی  چرچے ہیں۔ انہیں بنانے والی کمپنیوں کا دعوی ہے کہ اس ایجاد کے بعد لوگوں کو اپنی سیکس ڈیزائر پوری کرنے کیلئے بیوی یا گرل فرینڈ کی ضرورت نہیں ہوگی۔
کناڈا کے ٹرنٹو میں سیکس روبوٹ ڈالس کا ایک طوائف خانہ بھی ہے اور اب ایسا ہی ایک طوائف خانہ ہیوسٹن میں بھی کھولنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ کچھ ناقدین کی دلیل ہے کہ سیکس روبوٹ ڈالس کی تشہیر سے جسم فروشی اور سیکس اسمگلنگ میں اضافہ ہوگا.۔ دنیا بھر کے سیکس ماہر نفسیات اس پر فکرظاہر کررہے ہیں۔ پر کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ کہتے ہیں کہ ایسی تکنیک کچھ لوگوں کو ساتھی کھوجنے میں مدد کر سکتی ہے۔
ہیوسٹن میں سیکس روبوٹ طوائف خانہ کھولنے کے خلاف مستقبل میں کوئی قانون نہیں ہے لیکن حال ہی میں ایک کھولنے کے منصوبہ کا اعلان کیا گیا ہے جس میں کچھ مقامی کا کہنا ہے کہ وہاں ہونا چاہئے۔

Sovereign Harry gets enthusiastic, wipes tears at his wedding

Sovereign Harry gets enthusiastic, wipes tears at his wedding: Sovereign Harry his big day is a standout amongst the most paramount snapshots of one's life, yet for Prince Harry it appeared it was the day of most extreme significance as he remained alongside the affection forever.

Sovereign Harry gets enthusiastic, wipes tears at his wedding

Photo: The Sun

Sovereign Harry was spotted wiping without end tears as his now-spouse Meghan Markle remained beside him. The entire world looked as the British imperial teared up on observing his brilliant lady of the hour strolling down the passageway in a dazzling in a Givenchy outfit. 

Amid the wedding administration, he was shot getting enthusiastic and wiping tears away – giving the whole Internet a ton of feels. 

Ruler Harry was seen wiping off his tears with his fingers amid the service, minutes before he traded promises. 

Meghan's mom, Doris Ragland, additionally had tears in her eyes as she saw her little girl wedding her preferred man. 

Ruler Harry and American performer Meghan Markle were hitched on Saturday in an eagerly awaited function, which supporters expectation will help recast the 1,000-year-old government for the 21st century. 

The couple, who met on an introductory outing in 2016 and began to look all starry eyed at in a tent under the stars in Botswana, got married at the fifteenth century St George's Chapel, in a manor that has been home to 39 English rulers since 1066.